Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

ایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر Top Selling انسان اس کائنات کا عظیم

SKU: 59295887157

4.4
USD290.00 USD340.00

Pay in 4 interest-free payments of $72.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 8 - Sep 13

Description

انسان اس کائنات کا عظیم ترین راز ہے ، لیکن بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہیں اور جانے کے بجائے اس راز کی کھوج لگاتے ہیں۔ کیونکہ انسان اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے روانہ ہو جائے گا ۔ اور پھر اسے اپنے وجود سے ہی پالا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو جانتا ہی نہیں ہو گا تو وہ اپنی اس نادانی پر آنسو بہائے گا۔ اور باہر انسان جتنا بھی بھٹک لے جتنے بھی جتن کر لے کہیں پر پہنچنا نہیں ہوتا، ایک خالی پن اور ایک بے سکونی مسلسل انسان کو چبھوکے مارتی رہتی ہے۔ اور انسان خود کو نا مکمل محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس کاملیت کو پورا کرنے کے لیے مادی چیزوں کا سہارا لیتا رہتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ مادی چیزوں کو اکٹھا کر لینے سے شاید وہ کچھ پور ا ہو جائے گا ۔ لیکن ہر بار اس کا یہ بھر م سراب ثابت ہوتا ہے ۔ سکندر نے بھی اسی دوڑ میں آدھی دنیا فتح کر لی۔ لیکن جب موت آئی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ڈاکٹروں سے چند لمحے کی مہلت کی بھیک مانگ رہا تھا تاکہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ روتے روتے بھکاری کی موت مر گیا۔ صرف سکندر ہی نہیں دنیا کا ہر انسان سکندر کی طرح بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ وہ کاملیت کو حاصل کرنے کے لیے دولت، شہرت اور عزت اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ لیکن اسکا ادھور ا پن ادھورا ہی رہتا ہے۔ اور موت اس کو آ لیتی ہے۔ اور اسکا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ انسان کتنا بھولا اور پاگل ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی بات نہیں سمجھ پاتا کہ اس کا جسم فانی ہے اور اس کے پاس محدود وقت ہے ۔ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے۔ پھر بھی اسکی تمام دوڑ دھوپ جسم کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔لیکن جسم تو جلد یا بدیر مٹی ہونے ہی والا ہے۔ اور وہ روح کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا تبھی تو وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ جسے جدید میڈیکل آج ڈپریشن ، انگزائٹی ، اور ہائپر ٹینشن کا نام دیتی ہے۔ وہ بھی دراصل اسی روح سے دوری ، حقیقت سے دوری اور اپنے مرکز سے دوری کا سبب ہے۔لیکن انسان کتنا بھولا ہے کہ وہ پھر بھی اسی جسم کے علاج میں لگا رہتا ہے۔ روگ کوئی اور ہوتا ہے دوا کوئی اور کرتے رہتے ہیں۔ ہماری روح ہماری توجہ کے لیے بلکتی اور تڑپتی رہتی ہے ،اور ہم محض جسم کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور اس کے علاج کے لیے اپنی تمام دولت خرچنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔سکون ہمارے مرکز اور ہماری روح میں ہے اور ہم محیط میں ہی بھٹکتے بھٹکتے مر جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر اس بات سے اختلاف کرے تو اسے صوفیا کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسے معلوم ہو گا کہ انکی زندگی دنیاوی چیزوں کے معاملے میں کتنی پر سکون اور آرام دہ ہوتی ہے۔ انکو صرف ایک ہی بے چینی اور فکر ہوتی ہے اور وہ ہے قُربِ الٰہی۔اسکے علاوہ وہ ہردکھ ، درد اور ٹینشن سے آزاد ہوتے ہیں۔

عبدالحق 1870ء میں ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم کے لیے محمڈن کالج علی گڑھ بھیجے گئے۔ یہاں ا کی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ سر سید تک رسائی تھی۔ اس ذات گرامی سے براہ راست فیض اٹھانے کا موقع ملا۔ یہیں مولانا حالیؔ اور محسن الملک سے بھی نیاز حاصل ہوا۔ سرسید کے صاحب زادے جسٹس محمود سے بھی ملاقات تھی۔ سرسید نے تصنیف و تالیف کا کچھ کام عبدالحق کے سپرد بھی کیا اس طرح لکھنے پڑھنے کی پہلی تربیت اسی مرد بزرگ کے ہاتھوں ہوئی۔

Novel by Arthur Conan Doyle

"وکالت کے ناطے یہ بات عرض کرنی چاھوں گا کہ اگرچہ اس پیشہ سے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ وکلاء فیس لے کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے میں ماہر ہوتے ہیں

اکارٹ ٹولے بھی اُسی منزل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آپکو رستہ دکھا رہا ہے۔ آپکو پکار رہا ہے۔ آپکو صدا دے رہا ہے۔ کبھی وہ اس منزل کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ کبھی وہ تمہارے دکھوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ تمہیں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تم جس دنیا میں جی رہے ہو وہ کتنی مصیبتوں اور دکھوں سے بھری ہوئی دنیا ہے۔ تو کبھی وہ اپنی دنیا کے بارے میں اشارے دیتا ہے کہ دیکھو میں جس دنیا میں ہوں یہاں پر کتنا سکون اور کتنا اطمینان ہے ۔کبھی وہ آپ کو قائل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی وہ آپکو پریشان کرتا ہے ۔ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس سے پہلے کہ موت تم سے یہ زندگی اور یہ جسم چھین لے تم پہلے ہی اس جسم اور زندگی کو موت کے حوالے کر دو ۔ اور یہ طریقہ صوفیا اور اولیاء کا طریقہ ہے ۔یہ طریقہ دانشوروں کا طریقہ ہے ، یہ طریقہ مفکروں کا طریقہ ہے، یہ اہلِ نظر کا طریقہ ہے۔ جو چیز موت چھین لے گی اسے وہ پہلے ہی موت کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور یوں وہ زندگی کو زندگی کی طرح جیتے ہیں ۔ تم بھی اگر زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہتے ہو تو پھر اکارٹ ٹولے کی بات کو کان لگا کر سنو

ایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر Top Selling انسان اس کائنات کا عظیم" " : " " : " "

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products