Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

گمشدہ میراث | Gumshdha Miras The 100 اور کہا کہ:

SKU: 36129288965

4.6
USD190.00 USD234.00

Pay in 4 interest-free payments of $47.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 6 - Sep 11

Description

اور کہا کہ:

ناروے کے ناول نگار کنوٹ ہامسن کا سب سے مشہور ناول ”بھوک“ 1890ء میں جب منظرِ عام پر آیا تو ناروے کے اَدبی اور سرکاری حلقوں میں ہنگامہ بپا ہو گیا۔ یہ ناول گھناؤنی سماجی زندگی پر ایک کاری ضرب تھا اور اس کے چَھپنے پر بہت لے دے ہوئی۔ تنقید کی بارش چاروں طرف سے برسنے لگی اور کنوٹ ہامسن کو ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اُن دنوں میں ہامسن کا پرستار بننے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت تھی۔ اس کی تحریر میں کچھ ایسی سرکشی اور بغاوت تھی کہ ہر شخص کے دل میں عناد کی آگ بھڑک اُٹھتی تھی۔ اس نے اپنے وقت کی سربرآوردہ اَدبی شخصیات کے بُت توڑ کر رکھ دیے۔ نقادوں کی مخالفت کے باوجود کنوٹ ہامسن ان پر ہنستا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔ آخرکار نقادوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ہامسن، تحریر کے تیکھے پن اور جاندار اُسلوب کے حوالے سے اپنا جواب نہیں رکھتا۔ ”بھوک“ کنوٹ ہامسن کا پہلا ناول ہے اور اس کا عظیم ترین کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں ہامسن کی ژرف نگاہی اپنی بلندی پر ہے۔ اُسے پوری انسانیت کے تاریک کونے کریدنے والا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جعل سازیوں اور غلاظتوں پر بے رحمی سے حملہ آور ہوتا ہے۔ ”بھوک“ ایک بھوکی رُوح کی دل دوز پکار ہے۔ آج جب کہ دیس دیس میں بھوک کو پھیلایا جا رہا ہے اور استحصالی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہوئے قحط پیدا کیے جا رہے ہیں، اس ناول کا مطالعہ نہ صرف دلچسپ ثابت ہو گا بلکہ بھوک کے جنم داتاؤں کے مکروہ چہروں پر سے نقاب بھی اُٹھائے گا۔

Category: Business Business Self Help Business Self Help-Buh

"اور لائن کٹ گئی"

اور “Enlightenment” کا نام دیا ہے۔اس بات سے ایک چیز تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ نظریہ انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اور جن کو بھی عرفان نصیب ہوا ہے انہوں نے بھی اس پر انتہائی زور دیا ہے۔ ایک اور بات جو انتہائی قیمتی ہے اور سوچنے سے تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اہلِ عرفان کے پاس علم کی جو جھلک نظر آتی ہے ،کسی بھی فلاسفر کے پاس اس علم کا کوئی نشان نظر نہیں آتا ۔ کیونکہ اہلِ عرفان جو بات کرتے ہیں وہ انکا اپنا ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن فلاسفر محض دماغ میں ٹامک ٹویاں مارتے نظر آتے ہیں۔ دماغ سے ہم صرف وہی سوچ سکتے ہیں جو پہلے سے ہماری یادداشت کا حصہ ہو۔ دماغ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ انجان اور نامعلوم کے بارے میں سوچ سکے ۔ یہ جتنا بھی نامعلوم علم ہمارے پاس موجود ہے یہ یا تو وحی کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے یا پھر الہام کے ذریعے۔ اور ان دونوں کا دماغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو یہاں پر ایک بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ اہلِ عرفان کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جس تک ایک عام انسان بنا عرفان حاصل کیے نہیں پہنچ سکتا ۔

گمشدہ میراث | Gumshdha Miras The 100 اور کہا کہ:

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products