Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

چند ہم عصر | مولوی عبدالحق PAULO COELHO سعادت حسن منٹو

SKU: 14548517401

4.3
USD150.00 USD179.00

Pay in 4 interest-free payments of $37.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 7 - Sep 12

Description

سعادت حسن منٹو

انسان اس کائنات کا عظیم ترین راز ہے ، لیکن بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہیں اور جانے کے بجائے اس راز کی کھوج لگاتے ہیں۔ کیونکہ انسان اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے روانہ ہو جائے گا ۔ اور پھر اسے اپنے وجود سے ہی پالا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو جانتا ہی نہیں ہو گا تو وہ اپنی اس نادانی پر آنسو بہائے گا۔ اور باہر انسان جتنا بھی بھٹک لے جتنے بھی جتن کر لے کہیں پر پہنچنا نہیں ہوتا، ایک خالی پن اور ایک بے سکونی مسلسل انسان کو چبھوکے مارتی رہتی ہے۔ اور انسان خود کو نا مکمل محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس کاملیت کو پورا کرنے کے لیے مادی چیزوں کا سہارا لیتا رہتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ مادی چیزوں کو اکٹھا کر لینے سے شاید وہ کچھ پور ا ہو جائے گا ۔ لیکن ہر بار اس کا یہ بھر م سراب ثابت ہوتا ہے ۔ سکندر نے بھی اسی دوڑ میں آدھی دنیا فتح کر لی۔ لیکن جب موت آئی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ڈاکٹروں سے چند لمحے کی مہلت کی بھیک مانگ رہا تھا تاکہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ روتے روتے بھکاری کی موت مر گیا۔ صرف سکندر ہی نہیں دنیا کا ہر انسان سکندر کی طرح بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ وہ کاملیت کو حاصل کرنے کے لیے دولت، شہرت اور عزت اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ لیکن اسکا ادھور ا پن ادھورا ہی رہتا ہے۔ اور موت اس کو آ لیتی ہے۔ اور اسکا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ انسان کتنا بھولا اور پاگل ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی بات نہیں سمجھ پاتا کہ اس کا جسم فانی ہے اور اس کے پاس محدود وقت ہے ۔ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے۔ پھر بھی اسکی تمام دوڑ دھوپ جسم کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔لیکن جسم تو جلد یا بدیر مٹی ہونے ہی والا ہے۔ اور وہ روح کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا تبھی تو وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ جسے جدید میڈیکل آج ڈپریشن ، انگزائٹی ، اور ہائپر ٹینشن کا نام دیتی ہے۔ وہ بھی دراصل اسی روح سے دوری ، حقیقت سے دوری اور اپنے مرکز سے دوری کا سبب ہے۔لیکن انسان کتنا بھولا ہے کہ وہ پھر بھی اسی جسم کے علاج میں لگا رہتا ہے۔ روگ کوئی اور ہوتا ہے دوا کوئی اور کرتے رہتے ہیں۔ ہماری روح ہماری توجہ کے لیے بلکتی اور تڑپتی رہتی ہے ،اور ہم محض جسم کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور اس کے علاج کے لیے اپنی تمام دولت خرچنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔سکون ہمارے مرکز اور ہماری روح میں ہے اور ہم محیط میں ہی بھٹکتے بھٹکتے مر جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر اس بات سے اختلاف کرے تو اسے صوفیا کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسے معلوم ہو گا کہ انکی زندگی دنیاوی چیزوں کے معاملے میں کتنی پر سکون اور آرام دہ ہوتی ہے۔ انکو صرف ایک ہی بے چینی اور فکر ہوتی ہے اور وہ ہے قُربِ الٰہی۔اسکے علاوہ وہ ہردکھ ، درد اور ٹینشن سے آزاد ہوتے ہیں۔

چھان بین کے بعد بہت سی غلط فہمیوں کو رد کیا مثلاً اس خیال کی تردید کی کہ میرامن کی باغ و بہار فارسی کے قصہ چہار دردیش کا ترجمہ ہے۔ انہوں نے دلیلوں سے ثابت کردیا کہ اس کا ماخذ لوطرز مرصع ہے۔ مولوی صاحب کی زبان سادہ و سلیس ہوتی ہے جیسی تحقیق کے لیے ضروری ہے۔

ابنِ محمد یار

حضرت آدم ؑ سے لے کر آج تک انسان نے جتنی بھی تاریخ دیکھی ہے ان میں تما م پیغمبر ، فلاسفر ، دانشور، صوفیائے کرام ، اولیائے کرام ، بُدھا، رشییوں اور بھگتوں نے ایک ہی بات پر زور دیا ہے کہ "اپنے آپ کو جانیں"، " اپنے اندر ڈبکی لگائیں"۔ بے شک اس نظریے کو ہر مذہب نے الگ نا م دیا ہے ۔ لیکن معانی سب کا ایک ہی ہے۔ مسلمانوں نے اسے "عرفان ِ نفس" ، عرفانِ ذات" اور خودی کا نام دیا ہے ۔ ہندو اس نظریے کو "آتم بودھ " کا نام دیتے ہیں۔ قدیم یونان کے فلاسفرز نے اسے "ناؤ دائے سیلف (Know Thyself)" کہا ہے۔ بدھ مت میں اس نظریے کو "گیان " کہا جاتا ہے۔ کچھ دانشوروں نے اسے “Consciousness” “Awareness”

چند ہم عصر | مولوی عبدالحق PAULO COELHO سعادت حسن منٹو: 1870 1917 1961 1937

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products